Sunday, 6 July 2025

نوجوانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک: سوشل میڈیا کا خوف یا برسوں سے نظر انداز ہوتا ہوا مسئلہ؟


آج کل انٹرنیٹ پر ایک نئی بےچینی نے جنم لیا ہے — نوجوانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک یا دل کے امراض کی خبروں کا طوفان۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نظریہ جنم لے لیتا ہے:


"یہ سب کورونا ویکسین کی وجہ سے ہو رہا ہے!"


لوگ بغیر تحقیق کیے پوسٹس شیئر کرتے جاتے ہیں، تبصرے کرتے ہیں، اور خوف کا ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جیسے ویکسین لگوانا موت کی گارنٹی ہو۔

لیکن کیا یہ مسئلہ واقعی نیا ہے؟
کیا ویکسین ہی اس سب کی واحد وجہ ہے؟
یا یہ ایک پرانا بحران ہے جس پر اب جا کر بات ہو رہی ہے؟

آئیے حقائق کو کھول کر دیکھتے ہیں۔


افواہ: نوجوانوں میں اچانک دل کے دورے کووڈ کے بعد شروع ہوئے ہیں

حقیقت: نوجوانوں میں دل کے مسائل کافی عرصے سے بڑھ رہے ہیں۔


2008 کی ایک تحقیق کے مطابق انڈو-پاک عوام دنیا میں دل کی بیماریوں (CAD) کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں ہر پانچواں درمیانی عمر کا فرد دل کے مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے — اکثر بغیر کسی واضح علامات کے۔

امریکہ میں بھی 2000 کی دہائی سے نوجوانوں (20s اور 30s) میں دل کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صرف پاکستان یا ایک ملک کا مسئلہ نہیں — بلکہ ایک عالمی رجحان ہے۔


🔹ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈاکٹر اسعد اکبر (چیف آف کارڈیالوجی، شفا انٹرنیشنل ہسپتال) نے ورلڈ ہارٹ ڈے پر کہا:


"سست طرزِ زندگی، غیر صحت مند غذا، تمباکو نوشی، اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔"


پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی
(سینئر کارڈیالوجسٹ، پاکستان) نے صاف الفاظ میں افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا:


"ابھی تک کوئی قابلِ اعتماد تحقیق ایسی نہیں جو یہ ثابت کرے کہ کووڈ ویکسین دل کے دوروں کا سبب بن رہی ہے۔"


بلکہ حالیہ تحقیقات کے مطابق، کووڈ انفیکشن خود دل کے ورم اور طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے — ویکسین نہیں۔


🔹تو اصل میں دل کی بیماریاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟


1. تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال

آج کل نوجوان، چاہے مرد ہوں یا خواتین، سگریٹ نوشی، ویپنگ، اور نشہ آور اشیاء کو “کاپنگ مکینزم” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں — خاص طور پر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس۔ یہ عادتیں دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اچانک ہارٹ اٹیک کے خطرات بڑھاتی ہیں۔

2. ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور امیگڈالا کی overactivity

آج کی نسل میں ڈپریشن اور اینگزائٹی عام ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ Gen Z کے نوجوانوں کا امیگڈالا (دماغ کا خوف اور جذبات سے منسلک حصہ) زیادہ ایکٹیو ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ معمولی چیزوں پر بھی شدید ردِ عمل دکھاتے ہیں — اور یہ مسلسل دباؤ دل پر اثر ڈالتا ہے۔

3. خاندانی وراثت اور جینیاتی اثرات

اگر آپ کے والد یا دادا کو دل کی بیماری تھی، تو آپ کو بھی خطرہ ہے — چاہے آپ جوان ہوں۔
پاکستان میں کزن میرج کے رجحان کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں کا خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

4. خراب خوراک، ورزش کی کمی، اور نیند کی خرابی

پہلے لوگ سادہ کھانا کھاتے تھے، واک کرتے تھے، اور وقت پر سوتے تھے۔ آج کل فاسٹ فوڈ، بیٹھ کر گھنٹوں موبائل اسکرول کرنا، اور نیند کی کمی ایک عام طرزِ زندگی بن چکی ہے — جو دل کے لیے زہر ہے۔

5. تنہائی اور جذباتی سہارا نہ ہونا

آج کا نوجوان اکثر گھریلو ماحول میں بھی اکیلا محسوس کرتا ہے۔ والدین سے جذباتی فاصلہ، سمجھ بوجھ کی کمی، اور سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے — جو بالآخر جسمانی بیماریوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔


🔹خوف کا کاروبار: سوشل میڈیا کا کردار

سوشل میڈیا ایسی جگہ ہے جہاں خوف زیادہ بکتا ہے۔ ایک ویڈیو کسی “صحت مند نوجوان” کی اچانک موت پر وائرل ہوتی ہے، اور لوگ بغیر تحقیق کے یقین کر لیتے ہیں کہ ویکسین ہی اس کا سبب ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ ہمارے طرزِ زندگی، ذہنی صحت، اور لاپروائی میں چھپا ہوا ہے۔


🔹اب کرنا کیا چاہیے؟

اب ہمیں گفتگو کا رخ بدلنا ہوگا:

کیا میرے خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ ہے؟
کیا میں باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرواتا/کرواتی ہوں؟
کیا میں اپنی ذہنی صحت، نیند، اور خوراک کا خیال رکھتا/رکھتی ہوں؟
کیا میں سٹریس کو صحت مند طریقے سے قابو میں رکھتا/رکھتی ہوں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو زندگی بچا سکتے ہیں۔


نوجوانوں میں دل کی بیماری کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ڈاکٹرز 2006 سے اس پر بات کر رہے ہیں — بس اب یہ وائرل ہو رہا ہے۔

اگر سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگ خوف زدہ ہونے کے بجائے باخبر ہو جائیں، تو شاید یہ وائرس کا نہیں، بلکہ شعور کا پھیلاؤ بن جائے۔


No comments:

Post a Comment

کتاب کا جائزہ: "مالہ" از نمرہ احمد — شفا کا ایک سفر

 نمرہ احمد صرف ایک مصنفہ نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ان کی آراء اکثر کتابوں سے ہٹ کر معاشرتی اور دینی معاملات میں بھی ...