Friday, 11 July 2025

کتاب کا جائزہ: "مالہ" از نمرہ احمد — شفا کا ایک سفر

 نمرہ احمد صرف ایک مصنفہ نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ان کی آراء اکثر کتابوں سے ہٹ کر معاشرتی اور دینی معاملات میں بھی سامنے آتی ہیں، جن سے میں ذاتی طور پر کئی بار اختلاف رکھتی ہوں۔لیکن اگر صرف تحریر کی بات کی جائے خاص طور پر سنسنی خیز اور تھرل سے بھرپور کہانیوں کی تو ماننا پڑے گا کہ نمرہ احمد آج کی پاکستان کی سب سے کامیاب اور باصلاحیت مصنفہ ہیں۔


میرا نمرہ احمد کے ناولز پڑھنے کا تجربہ

میں نے پاکستان کے کئی مشہور ادیبوں کو پڑھا ہے، لیکن جتنا سسپنس، بے یقینی اور تجسس نمرہ احمد کے ناولز میں ملتا ہے، وہ کہیں اور نہیں ملا۔ ان کے پلاٹ ٹوسٹس اتنے حیران کن اور نئے ہوتے ہیں کہ ہر بار لگتا ہے، "اب کیا ہوگا؟"


کبھی کبھی تبدیلیاں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ دل میں آتا ہے:

"پتا نہیں یہ کہانی کو بہتر بنائے گا یا خراب کرے گا؟"

لیکن وہ ہر بار کسی نہ کسی طرح اسے بہتر ہی بنا دیتی ہیں۔ 


بعض حصے، خاص طور پر "مالہ" اور "نمل" میں تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی Netflix کا ڈرامہ اسکرپٹ پڑھ رہی ہوں۔ سچ پوچھیں تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی کہ یہ مجھے پسند ہے یا نہیں۔ ناول کو ناول ہی رہنا چاہیے، اسکرپٹ الگ چیز ہے — لیکن شاید وہ کچھ نیا آزما رہی ہیں۔

https://s.daraz.pk/s.bUPqs?cc


 "مالہ" کا تجزیہ 

میں "مالہ" پڑھنے میں کچھ دیر سے شامل ہوئی، لیکن جب پڑھنا شروع کیا تو صرف 8 دنوں میں پہلا حصہ اور دوسرے کا آدھا حصہ مکمل کر لیا — یہ اتنا دلچسپ تھا۔لیکن جیسے ہی میں حصہ 4: استنبول تک پہنچی اور معلوم ہوا کہ "بدر غائب ہو چکا ہے" — تو میری دلچسپی کم ہو گئی۔ روز کتاب کھولتی تھی، لیکن دو صفحوں سے زیادہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے:

"ابھی تو حلال ملی تھی، اب بدر گم، اب دوبارہ وہی سب پڑھنا پڑے گا۔"


یہ پہلی بار تھا کہ نمرہ احمد کے کسی ناول کے کچھ ابواب مجھے بورنگ لگے — مگر یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ جیسے ہی کہانی اختتام کے قریب پہنچی، رفتار تیز ہو گئی اور دوبارہ دلچسپی لوٹ آئی۔


 اختتام — ایک مختلف مگر حقیقت پسندانہ زاویہ

"مالہ" کے اختتام پر بہت باتیں ہوئیں، خاص طور پر ناقدین کی طرف سے سخت تنقید کی گئی۔ سوشل میڈیا پر spoilers کی وجہ سے مجھے پہلے ہی علم تھا کہ "مالہ" مر جائے گی اور کئی قارئین اس پر ناراض تھے۔ کیونکہ مالہ ایک شفا کی کہانی تھی، لوگ چاہتے تھے کہ آخر میں ماہر اور مالہ کی شادی ہو، اور وہ ایک خوبصورت زندگی گزاریں۔


لیکن زندگی میں شفا کا مطلب ہمیشہ "خوشی سے زندگی گزارنا" نہیں ہوتا۔ شفا کا مطلب ہے: اپنے زخموں کو پہچاننا، انھیں قبول کرنا، ان سے گزرنا اور آگے بڑھنا — چاہے زندگی دوبارہ مسائل لے آئے۔


مالہ کی موت اس کے healing کے سفر کو ختم نہیں کرتی، بلکہ مکمل کرتی ہے۔ اس نے خود کو سمجھا، بہتر کیا، اور پھر محبت کے لیے خود کو کھولا۔ یہی اصل ہیلنگ ہے نہ کہ کوئی فیری ٹیل، بلکہ ایک جیتی جاگتی، خاموش، سچی کہانی۔


ایک مختلف ہیرو: ماہر

"مالہ" کا سب سے منفرد پہلو اس کے مرکزی مرد کردار ماہر کی شخصیت تھی۔ نمرہ احمد کے بیشتر مرد کردار انتہائی ذہین اور مضبوط دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن ماہر ایک مختلف ہیرو تھا۔


وہ ذہین تو ضرور تھا، لیکن اس کے اندر جذباتی زخم، ماضی کی تکلیفیں، تھیراپی، اور اپنی کمزوریاں بھی تھیں۔پہلی بار، نمرہ احمد نے دکھایا کہ بہت ذہین اور کامیاب لوگ بھی ٹوٹ سکتے ہیں — اور انھیں بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہر نہ صرف اندرونی طور پر ٹوٹا ہوا تھا بلکہ باہر کی دنیا نے بھی اسے جکڑ رکھا تھا۔ اس کی جدوجہد نے اسے انتہائی حقیقت پسند اور قابلِ ہمدردی کردار بنا دیا۔


 نمرہ احمد پر تنقید — کتنی جائز؟

کئی لوگ نمرہ احمد کی لکھنے کے انداز پر تنقید کرتے ہیں، کہ وہ "کوریئن ڈرامہ" لگتا ہے، یا یہ کہ اب انھیں لکھنا بند کر دینا چاہیے۔ لیکن یہ تنقید غیر منصفانہ لگتی ہے۔

ہر مصنف کا اپنا ایک انداز (style) ہوتا ہے۔ جو نمرہ کی پرانی تحریریں پڑھے گا، وہ فوراً اس انداز کو پہچان لے گا کیونکہ یہی ان کی منفرد پہچان ہے۔


اگر کسی کو ان کا انداز پسند نہیں، تو یہ کوئی مسئلہ نہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی محنت اور قلم کو نیچا دکھایا جائے۔ ہر مصنف ہر ایک کے لیے نہیں لکھتا۔ نمرہ ان کے لیے لکھتی ہیں جو سیکھنا، محسوس کرنا اور شفا پانا چاہتے ہیں — نہ کہ صرف وقت گزارنے کے لیے کچھ پڑھنا چاہتے ہیں۔


"مالہ" صرف ایک کہانی نہیں — یہ ایک سفر ہے:

محبت کا، درد کا، شفا کا، اور انسان ہونے کا۔


کچھ ابواب شاید سست لگیں، کچھ موڑ شاید پریشان کریں، لیکن مجموعی طور پر، یہ ناول ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ بھلا نہیں سکیں گے۔ اگر آپ کوئی ایسی کتاب چاہتے ہیں جو صرف تھرل نہیں بلکہ روح میں اترنے والا احساس بھی دے — تو "مالہ" ضرور پڑھیں۔


Wednesday, 9 July 2025

 


صنفی تعصبات: وہ نظر نہ آنے والی رکاوٹیں جو اب بھی قائم ہیں

تعصبات وہ خیالات ہوتے ہیں جو ہم کسی دوسرے گروہ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ان میں رویے، ظاہری شکل، شخصیت کی خصوصیات اور دیگر چیزوں سے متعلق مفروضے شامل ہوتے ہیں۔

صنفی تعصبات ان خیالات کو کہا جاتا ہے جو مردوں اور عورتوں کی خصوصیات سے متعلق ہوتے ہیں — اور اکثر دونوں کو ایک دوسرے کے الٹ سمجھا جاتا ہے۔


مثال کے طور پر، خواتین کو عموماً مہربان، نرم دل اور خیال رکھنے والی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان مثبت صفات کو منفی طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ خواتین کمزور، جذباتی اور دوسروں پر انحصار کرنے والی ہوتی ہیں۔

دوسری طرف، مردوں کو باصلاحیت، فیصلہ کن اور پراعتماد تصور کیا جاتا ہے — لیکن یہی خصوصیات انھیں جارحانہ، خودغرض اور سخت گیر بھی بنا دیتی ہیں۔

یہ اجتماعی خیال رائج ہے کہ خواتین میں نرمی اور ہمدردی زیادہ جبکہ قابلیت کم ہے، اور مردوں میں قابلیت زیادہ لیکن نرمی کم پائی جاتی ہے۔
اسی لیے مردوں کو عموماً اعلیٰ مقام کا اہل سمجھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کو ان کی نرمی کی وجہ سے "اچھی" تو کہا جاتا ہے، مگر طاقتور عہدوں کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔


اس رجحان کو (Women are Wonderful Effect) کہا جاتا ہے۔


لیکن اس مثبت تاثر کے باوجود، خواتین کو اب بھی اعلیٰ عہدوں کے لیے کم موزوں سمجھا جاتا ہے۔


شیشے کی چھت (Glass Ceiling)

شیشے کی چھت ایک استعارہ ہے، جو اُن نظر نہ آنے والی رکاوٹوں کو ظاہر کرتا ہے جو خواتین کو پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔


2010 کی ایک تحقیق کے مطابق، 500 بڑی کمپنیوں میں صرف 1 فیصد میں خواتین CEO تھیں۔


اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ "ایک عام مینیجر" کا تصور اکثر "ایک عام مرد" سے جوڑا جاتا ہے۔ خواتین کو قیادت کے کردار کے لیے کم موزوں سمجھا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ جب خواتین مردوں کے شعبوں میں کامیاب بھی ہو جائیں، تب بھی وہ ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ صنفی امتیاز کا سامنا کرتی ہیں جو خواتین کے روایتی شعبوں میں کام کرتی ہیں۔


یہ مانا جاتا ہے کہ صنفی تعصبات اب کم ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جب خواتین سخت یا فیصلہ کن قیادت کا مظاہرہ کرتی ہیں، تو اکثر انھیں ناپسند کیا جاتا ہے — جبکہ مردوں کو ایسی قیادت پر سراہا جاتا ہے۔


شیشے کی کھائی (Glass Cliff)

جب خواتین قیادت میں ناکام ہوتی ہیں، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کردار کے قابل ہی نہیں تھیں۔


مگر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خواتین کو اکثر ایسی قیادت سونپی جاتی ہے جب ادارہ بحران کا شکار ہوتا ہے — یعنی جب ناکامی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ رجحان "شیشے کی کھائی" کہلاتا ہے۔


تحقیقات بتاتی ہیں کہ:

  • جب کوئی کمپنی نقصان میں جا رہی ہو، تو CEO کے طور پر خاتون کو منتخب کیا جاتا ہے۔
  • جب کسی سیاسی مہم کا ہارنا طے ہو، تو اس کی سربراہی کسی عورت کو دی جاتی ہے۔
  • جب کوئی تنظیم یا میلہ زوال کا شکار ہو، تو خاتون کو اس کی قیادت دی جاتی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے خواتین ناکام ہو رہی ہیں، جبکہ اصل میں انھیں ناکامی کے کنارے پر لا کر کھڑا کیا گیا ہوتا ہے۔


ٹوکن ازم: ایک جھوٹی مساوات

یہ کہنا کہ "دنیا بدل گئی ہے" اور اب جنس کی کوئی اہمیت نہیں، ایک سطحی سوچ ہے۔ جب ایک عورت کامیاب نہیں ہوتی، تو یہی کہا جاتا ہے کہ شاید وہ خود ہی ناکام ہے۔


یہ سوچ ٹوکن ازم (Tokenism) کا نتیجہ ہے، جس میں چند خواتین کو نمائشی طور پر اعلیٰ عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ تاثر دیا جا سکے کہ سب کے لیے مواقع برابر ہیں۔


ٹوکن ازم کے منفی اثرات:

  • دوسرے افراد اس خاتون کو غیر مستحق سمجھ سکتے ہیں۔
  • وہ خود یہ محسوس کرتی ہے کہ اسے محض عورت ہونے کی وجہ سے منتخب کیا گیا، جس سے اعتماد اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
  • امتیازی سوچ رکھنے والے افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نظام اب مساوی ہے — حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
  • خود ان منتخب خواتین کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔


جب کوئی آواز اُٹھائے تو

جب کوئی صنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو کبھی تو تبدیلی آتی ہے، مگر اکثر وہ الزامات، بدنامی یا تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ شخص صرف بہانے بنا رہا ہے؟ یہاں تک کہ بعض اوقات خواتین خود دوسری خواتین کی بات پر یقین نہیں کرتیں۔


جب کوئی عورت کہتی ہے کہ اس کی ناکامی کی وجہ صنفی امتیاز ہے، تو بعض دوسری خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ وہ محض بہانے بنا رہی ہے — خاص طور پر جب بظاہر ناکامی کی ذمہ داری اس کی اپنی لگتی ہو۔


آج بھی جب کوئی عورت کسی اعلیٰ مقام پر پہنچتی ہے تو ہم جشن مناتے ہیں — اور یہ ثابت کرتا ہے کہ صنفی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ برابری کی جدوجہد جاری ہے لیکن ہمیشہ مرد ہی خواتین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

کبھی کبھار، عورتیں ایک دوسرے کی سب سے بڑی مخالف بن جاتی ہیں۔


لہٰذا، ہر خاتون سے گزارش ہے:
رکاوٹوں سے آگے دیکھیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اور وہ حاصل کریں جس کی آپ حق دار ہیں۔


Sunday, 6 July 2025

نوجوانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک: سوشل میڈیا کا خوف یا برسوں سے نظر انداز ہوتا ہوا مسئلہ؟


آج کل انٹرنیٹ پر ایک نئی بےچینی نے جنم لیا ہے — نوجوانوں میں اچانک ہارٹ اٹیک یا دل کے امراض کی خبروں کا طوفان۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نظریہ جنم لے لیتا ہے:


"یہ سب کورونا ویکسین کی وجہ سے ہو رہا ہے!"


لوگ بغیر تحقیق کیے پوسٹس شیئر کرتے جاتے ہیں، تبصرے کرتے ہیں، اور خوف کا ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جیسے ویکسین لگوانا موت کی گارنٹی ہو۔

لیکن کیا یہ مسئلہ واقعی نیا ہے؟
کیا ویکسین ہی اس سب کی واحد وجہ ہے؟
یا یہ ایک پرانا بحران ہے جس پر اب جا کر بات ہو رہی ہے؟

آئیے حقائق کو کھول کر دیکھتے ہیں۔


افواہ: نوجوانوں میں اچانک دل کے دورے کووڈ کے بعد شروع ہوئے ہیں

حقیقت: نوجوانوں میں دل کے مسائل کافی عرصے سے بڑھ رہے ہیں۔


2008 کی ایک تحقیق کے مطابق انڈو-پاک عوام دنیا میں دل کی بیماریوں (CAD) کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں ہر پانچواں درمیانی عمر کا فرد دل کے مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے — اکثر بغیر کسی واضح علامات کے۔

امریکہ میں بھی 2000 کی دہائی سے نوجوانوں (20s اور 30s) میں دل کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صرف پاکستان یا ایک ملک کا مسئلہ نہیں — بلکہ ایک عالمی رجحان ہے۔


🔹ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈاکٹر اسعد اکبر (چیف آف کارڈیالوجی، شفا انٹرنیشنل ہسپتال) نے ورلڈ ہارٹ ڈے پر کہا:


"سست طرزِ زندگی، غیر صحت مند غذا، تمباکو نوشی، اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔"


پروفیسر ڈاکٹر ندیم رضوی
(سینئر کارڈیالوجسٹ، پاکستان) نے صاف الفاظ میں افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا:


"ابھی تک کوئی قابلِ اعتماد تحقیق ایسی نہیں جو یہ ثابت کرے کہ کووڈ ویکسین دل کے دوروں کا سبب بن رہی ہے۔"


بلکہ حالیہ تحقیقات کے مطابق، کووڈ انفیکشن خود دل کے ورم اور طویل مدتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے — ویکسین نہیں۔


🔹تو اصل میں دل کی بیماریاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟


1. تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال

آج کل نوجوان، چاہے مرد ہوں یا خواتین، سگریٹ نوشی، ویپنگ، اور نشہ آور اشیاء کو “کاپنگ مکینزم” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں — خاص طور پر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس۔ یہ عادتیں دل کی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اچانک ہارٹ اٹیک کے خطرات بڑھاتی ہیں۔

2. ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور امیگڈالا کی overactivity

آج کی نسل میں ڈپریشن اور اینگزائٹی عام ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ Gen Z کے نوجوانوں کا امیگڈالا (دماغ کا خوف اور جذبات سے منسلک حصہ) زیادہ ایکٹیو ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ معمولی چیزوں پر بھی شدید ردِ عمل دکھاتے ہیں — اور یہ مسلسل دباؤ دل پر اثر ڈالتا ہے۔

3. خاندانی وراثت اور جینیاتی اثرات

اگر آپ کے والد یا دادا کو دل کی بیماری تھی، تو آپ کو بھی خطرہ ہے — چاہے آپ جوان ہوں۔
پاکستان میں کزن میرج کے رجحان کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں کا خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

4. خراب خوراک، ورزش کی کمی، اور نیند کی خرابی

پہلے لوگ سادہ کھانا کھاتے تھے، واک کرتے تھے، اور وقت پر سوتے تھے۔ آج کل فاسٹ فوڈ، بیٹھ کر گھنٹوں موبائل اسکرول کرنا، اور نیند کی کمی ایک عام طرزِ زندگی بن چکی ہے — جو دل کے لیے زہر ہے۔

5. تنہائی اور جذباتی سہارا نہ ہونا

آج کا نوجوان اکثر گھریلو ماحول میں بھی اکیلا محسوس کرتا ہے۔ والدین سے جذباتی فاصلہ، سمجھ بوجھ کی کمی، اور سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے — جو بالآخر جسمانی بیماریوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔


🔹خوف کا کاروبار: سوشل میڈیا کا کردار

سوشل میڈیا ایسی جگہ ہے جہاں خوف زیادہ بکتا ہے۔ ایک ویڈیو کسی “صحت مند نوجوان” کی اچانک موت پر وائرل ہوتی ہے، اور لوگ بغیر تحقیق کے یقین کر لیتے ہیں کہ ویکسین ہی اس کا سبب ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ ہمارے طرزِ زندگی، ذہنی صحت، اور لاپروائی میں چھپا ہوا ہے۔


🔹اب کرنا کیا چاہیے؟

اب ہمیں گفتگو کا رخ بدلنا ہوگا:

کیا میرے خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ ہے؟
کیا میں باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرواتا/کرواتی ہوں؟
کیا میں اپنی ذہنی صحت، نیند، اور خوراک کا خیال رکھتا/رکھتی ہوں؟
کیا میں سٹریس کو صحت مند طریقے سے قابو میں رکھتا/رکھتی ہوں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو زندگی بچا سکتے ہیں۔


نوجوانوں میں دل کی بیماری کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ڈاکٹرز 2006 سے اس پر بات کر رہے ہیں — بس اب یہ وائرل ہو رہا ہے۔

اگر سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگ خوف زدہ ہونے کے بجائے باخبر ہو جائیں، تو شاید یہ وائرس کا نہیں، بلکہ شعور کا پھیلاؤ بن جائے۔


Saturday, 5 July 2025

PTSD — ایک خاموش مگر گہرا مرض

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) دماغی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کی تشخیص صرف علامات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُس واقعے کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو اس کا سبب بنا ہو — یعنی کوئی شدید یا ہولناک حادثہ۔

تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ شخص نے ایسا واقعہ دیکھا یا جھیلا ہو جس میں موت، شدید چوٹ یا جنسی زیادتی شامل ہو۔ اگرچہ عام طور پر PTSD کو جنگ سے لوٹنے والے فوجیوں سے جوڑا جاتا ہے، لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین، خصوصاً ریپ سروائیورز، اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم، صدمہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے — یہ کسی عمر، جنس یا قومیت تک محدود نہیں۔


🔹 PTSD کی علامات (DSM-5 کے مطابق)

DSM-5 کے مطابق PTSD کی علامات کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:


1. یادوں کا بار بار آنا

بار بار ذہن میں وہی واقع آنا، ڈراؤنے خواب یا کسی چیز سے یاد تازہ ہونا۔ جیسے ہیلی کاپٹر کی آواز سے کسی فوجی کو جنگ کا منظر یاد آ جانا یا اندھیرے سے ریپ کی یاد آنا۔


2. چیزوں سے بچنا (Avoidance)

ایسے مقامات، حالات یا لوگوں سے دوری اختیار کرنا جو صدمے کی یاد دلاتے ہوں۔ لیکن یہ حکمت عملی اکثر ناکام ہو جاتی ہے، اور یادیں پھر سے آ جاتی ہیں۔ مثلاً زلزلے کے بعد کچھ لوگ گھر کے اندر سونے سے گھبراتے ہیں۔


3. موڈ اور سوچ میں تبدیلیاں

خود کو یا دوسروں کو واقعے کا ذمہ دار سمجھنا، خوشی محسوس نہ کرنا، دلچسپی ختم ہو جانا، یا دوسروں سے لاتعلقی۔


4. بڑھا ہوا اشتعال اور اضطراب

چڑچڑا پن، جارحیت، نیند کی کمی، خطرناک رویہ یا مسلسل ڈر محسوس کرنا۔


یہ علامات عام طور پر دیرپا ہوتی ہیں، اور اکثر لوگ خودکشی کے خیالات کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ PTSD کوئی ایسی چیز نہیں جو خودبخود ختم ہو جائے یہ وقت لیتا ہے اور گہرا اثر چھوڑتا ہے۔


🔹 Acute Stress Disorder (ASD) کیا ہے؟

جب علامات حادثے کے 3 دن سے 1 ماہ کے اندر ظاہر ہوں تو اسے Acute Stress Disorder (ASD) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی علامات PTSD جیسی ہوتی ہیں، لیکن اس کی مدت کم ہونے کی وجہ سے بعض ماہرین اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شدید صدمے پر قدرتی ردعمل کو "بیماری" بنا دیتا ہے۔


لیکن تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ASD رکھنے والے افراد میں آئندہ دو سالوں کے اندر PTSD کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی علاج نہایت ضروری ہوتا ہے۔


🔹 دیگر ذہنی بیماریوں کے ساتھ تعلق اور صنفی فرق

PTSD اکثر اکیلا نہیں آتا۔ 93٪ سے زیادہ افراد میں PTSD کے ساتھ ڈپریشن یا اینزائٹی جیسی بیماریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ خواتین میں اس کی شرح مردوں سے زیادہ ہے، اور ثقافت بھی علامات اور ان کے اظہار پر اثر ڈالتی ہے۔


🔹 کچھ لوگوں کو PTSD کیوں ہوتا ہے اور کچھ کو نہیں؟

اگرچہ PTSD کی بہت سی علامات اینزائٹی جیسی ہوتی ہیں، جیسے دماغ کے خوف سے جُڑے حصے Amygdala کی زیادتی، مگر کچھ یونیَک (خاص) وجوہات بھی ہیں جو PTSD کی پیشگوئی کرتی ہیں:


1. صدمے کی نوعیت

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی ہاتھوں سے ہونے والے صدمات — جیسے جنسی زیادتی، جنگ، یا تشدد — قدرتی آفات کے مقابلے میں زیادہ PTSD پیدا کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ انسانی ظلم ہمیں اندر سے زیادہ توڑ دیتا ہے۔


2. دماغی ساخت

PTSD میں Amygdala زیادہ ایکٹیو ہو جاتی ہے (یعنی خوف کا احساس بڑھ جاتا ہے)، اور Prefrontal Cortex کمزور ہو جاتی ہے (یعنی خوف کو قابو میں رکھنے والا حصہ کمزور ہوتا ہے)۔ اس کے علاوہ، PTSD میں Hippocampus — یادداشت اور جذبات کا مرکز — اکثر نارمل سے چھوٹا ہوتا ہے۔


3. Coping Mechanism اور سوشل سپورٹ

جن لوگوں کا ذہنی لیول اچھا ہو، سپورٹ سسٹم موجود ہو اور جو صدمے پر غور کر کے اس کا سامنا کریں، اُن میں PTSD ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنے جذبات کو دباتے ہیں یا ان سے بھاگتے ہیں، وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ اُن کا صدمہ اُنہیں مضبوط اور زیادہ بامقصد انسان بنا گیا۔


🔹PTSD کا علاج


1. دوائیاں (Medication)

ایسی دوائیاں جیسے SSRIs اور Antidepressants، PTSD کی علامات کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔


2. Exposure Therapy

اس میں مریض کو ایک محفوظ ماحول میں دوبارہ وہ واقعہ یاد دلایا جاتا ہے — چاہے تخیل کے ذریعے ہو یا Virtual Reality کے ذریعے۔ یہ طریقہ جذباتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر اس سے مثبت نتائج دیکھے گئے ہیں — اگرچہ یہ متنازع ہے، خاص طور پر جنسی زیادتی کے کیسز میں۔


3. ASD کا جلد علاج

اگر ASD کے دوران Cognitive Behavioral Therapy (CBT) دی جائے تو PTSD کے امکانات 32٪ کم ہو جاتے ہیں۔


اگر آپ PTSD کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں — تو یہ آپ کے لیے ہے

ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا، لیکن مستقبل آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ کو ہر دن مضبوط بننے کی ضرورت نہیں۔ جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنی رفتار سے، اپنی ہمت کے مطابق، کوشش جاری رکھیں۔

کوشش کریں کہ آپ جس صدمے سے گزرے ہیں، اس میں کچھ سیکھنے کو تلاش کریں — نہ اس لیے کہ وہ صحیح تھا، بلکہ اس لیے کہ آپ کی بقا اب کسی اور کے لیے امید بن سکتی ہے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں، اور آپ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہو

ئی۔

اپنے آپ کو بچانا صرف آپ کے ہاتھ میں ہے — لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو یہ سفر اکیلے طے کرنا ہے۔

Thursday, 3 July 2025

ہم اتھارٹی کی اطاعت کیوں کرتے ہیں — حتیٰ کہ جب وہ غلط ہو؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اکثر اختیار رکھنے والوں کی بات کیوں مانتے ہیں — چاہے ہمارا دل نہ بھی مان رہا ہو؟ چاہے وہ استاد ہو، والدین، باس یا کوئی اور بااختیار شخص، ہم بعض اوقات صرف اس لیے کچھ کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہوتا ہے۔



اگرچہ اطاعت اکثر سماجی نظم و ضبط کے لیے ضروری ہوتی ہے، لیکن جب یہ ہمارے ضمیر اور اخلاقی شعور کو دبا دے، تو یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔


آئیے اس موضوع کو سماجی نفسیات (social psychology) کی نظر سے سمجھتے ہیں۔


نفسیات میں اطاعت: مشہور تجربات کی جھلک


اسٹینلے ملگرام کا تجربہ (1960s)

اسٹینلے ملگرام نے یہ جاننے کے لیے ایک مشہور تجربہ کیا کہ اختیار رکھنے والا شخص کسی انسان کی اطاعت پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ یہ تجربہ "سزا اور سیکھنے" کے تعلق پر ہے۔ انہیں "ٹیچر" کا کردار دیا گیا جبکہ اصل میں ایک اداکار "لرنر" کے طور پر شامل تھا۔

جب "لرنر" غلط جواب دیتا، تو "ٹیچر" کو کہا جاتا کہ وہ اسے بجلی کا جھٹکا دے، جو 15 وولٹ سے شروع ہو کر 450 وولٹ تک جاتا۔

اگرچہ "لرنر" کو حقیقت میں کوئی جھٹکا نہیں لگ رہا تھا، لیکن شرکاء کو ایسا ہی لگتا تھا — کیونکہ چیخنے، درد کا اظہار، اور بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کیا گیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ 65٪ سے زیادہ افراد جھٹکے دیتے رہے — صرف اس لیے کیونکہ ایک لیب کوٹ میں موجود شخص ان سے کہہ رہا تھا۔


جیری برگر کا دوبارہ تجربہ (2009)

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایسی اندھی اطاعت آج کے دور میں نہیں ہو سکتی؟

2009 میں ماہرِ نفسیات جیری برگر نے اسی تجربے کو کچھ اخلاقی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ دہرایا — خواتین کو بھی شامل کیا، اور جھٹکوں کو 150 وولٹ پر روک دیا۔ نتائج چونکا دینے والے تھے:

🔸 66.7٪ مرد اور 72.7٪ خواتین نے اطاعت کی۔

🔸 یہاں تک کہ جب انہیں نافرمانی کی مثال دکھائی گئی، تب بھی 54.5٪ مرد اور 68.4٪ خواتین نے احکامات ماننے کا سلسلہ جاری رکھا۔


یہ تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ایک عام سا اختیار رکھنے والا فرد — جیسے کہ لیب کوٹ میں ملبوس شخص — بھی دوسروں سے غیر اخلاقی افعال کروا سکتا ہے۔


تباہ کن اطاعت کیوں ہوتی ہے؟

اب ہم جان چکے ہیں کہ لوگ بعض اوقات خطرناک یا غیر اخلاقی کام صرف حکم ماننے کی خاطر کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟

سماجی نفسیات کے مطابق کچھ وجوہات یہ ہیں:

1. ذمہ داری کی منتقلی

لوگ اکثر کہتے ہیں: "میں نے تو صرف حکم مانا ہے"۔

جب کوئی اتھارٹی آپ کو کوئی کام کرنے کا کہے، تو لوگ خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتے — وہ ذمہ داری اس شخص پر ڈال دیتے ہیں جو حکم دے رہا ہوتا ہے۔

2. اختیار کی ظاہری علامات

یونیفارم، لیب کوٹ، عہدے — یہ سب ہمیں بچپن سے سکھایا گیا ہے کہ یہ "قابلِ اطاعت" لوگ ہیں۔ ہم اکثر بنا سوچے سمجھے ان کی بات مان لیتے ہیں۔

3. قدم بہ قدم اطاعت (Foot-in-the-door technique)

اطاعت اکثر چھوٹے احکامات سے شروع ہوتی ہے۔ پہلے چھوٹی بات، پھر اس سے تھوڑا سخت، اور پھر آہستہ آہستہ خطرناک احکامات تک۔

چونکہ لوگ شروع کر چکے ہوتے ہیں، اس لیے رکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

4. تیزی سے گزرتے حالات

جب سب کچھ تیزی سے ہو رہا ہو، تو انسان کے پاس سوچنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایسے ماحول میں لوگ زیادہ آسانی سے احکامات مان لیتے ہیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔


تباہ کن اطاعت کو کیسے روکا جائے؟

پہلا قدم آگاہی ہے۔ اگر ہمیں پتا ہو کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں، تو ہم بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔

 1. ذاتی ذمہ داری کو بڑھانا

ہر فرد کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، چاہے حکم کسی نے بھی دیا ہو۔

 2. اتھارٹی کی حد پہچاننا

سب سے کہنا کہ ہر حکم ماننا ضروری نہیں — خاص طور پر جب وہ اخلاقی طور پر غلط ہو۔

 3. تنقیدی سوچ کی تربیت

ہر حکم پر "کیوں" کا سوال اٹھائیں۔ خاص طور پر اگر اس کا نتیجہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

 4. ایسے تجربات سے سیکھنا

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ ملگرام یا برگر کے تجربات سے واقف ہوتے ہیں، وہ حقیقی زندگی میں نافرمانی کرنے کے امکانات زیادہ رکھتے ہیں۔


حقیقی دنیا کی مثال: فلسطین میں جو ہو رہا ہے

یہ سب صرف تھیوری نہیں ہے۔ آج بھی ہم دنیا میں ظلم اور نسل کشی دیکھ رہے ہیں — جیسا کہ فلسطین میں۔ معصوم لوگوں کی جانیں لی جا رہی ہیں، اور بہت سے سپاہی صرف اس لیے یہ سب کر رہے ہیں کیونکہ انہیں کہا گیا ہے۔ یہی تباہ کن اطاعت ہے۔

یہ صرف تاریخ نہیں ہے۔ یہ حال ہے۔


ہم کیا کر سکتے ہیں؟

ہم پوری دنیا کو راتوں رات نہیں بدل سکتے، لیکن ہم خود سے ضرور شروع کر سکتے ہیں:

🔸 ہر حکم کو ماننے سے پہلے سوال کریں۔

🔸 مخالف فریق کا نقطہ نظر بھی سمجھیں — چاہے آپ متفق نہ ہوں۔

🔸 صرف میڈیا یا یک طرفہ ذرائع پر نہ چلیں — سچ کو ہر زاویے سے جاننے کی کوشش کریں۔

🔸 یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اختلافات اور مسائل کی جڑ کیا ہے۔

اطاعت بعض اوقات ضروری ہوتی ہے — لیکن جب یہ اخلاقی حدیں پار کر جائے، تو یہ خطرناک ہو سکتی ہے۔


Monday, 6 January 2025

Squid Game اور انسانی رویوں کا تجزیہ

"squid game" دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ آخر لوگ دھوکہ کیوں دیتے ہیں، جب کہ انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ ان کے اس عمل سے کسی اور کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یہاں تک کہ کسی کی جان بھی جا سکتی ہے؟ اس سیریز میں ہم دیکھتے ہیں کہ کھلاڑی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، صرف اس لیے کہ وہ جیت سکیں یا اپنی بقا کو یقینی بنا سکیں۔

Psychology of batrayal

یہ سوال صرف ایک سیریز تک محدود نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی یہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ اپنے مفادات کے لیے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، کبھی اپنی زندگی بچانے کے لیے تو کبھی طاقت یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے۔ چلیے، اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف ماہرین دھوکہ دہی کو کیسے سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں کیا کہتے  ہیں۔

نفسیاتی نقطہ نظر

سماجی نفسیات کی ایک اہم تھیوری، سوشل آئیڈینٹٹی تھیوری(Social Identity Theory) دھوکہ دہی کے رویے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ تھیوری بتاتی ہے کہ انسان دھوکہ اس وقت دیتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اس کا یا اس گروپ کا، جس کا وہ حصہ ہے، نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی حفاظت یا اپنے گروپ کو بچانے کے لیے کسی اور کو نقصان پہنچانا غلط نہیں سمجھتا۔
لیکن یہاں ایک سوال  پیدا ہوتا ہے: کیا ایسے افراد کو اپنے عمل پر شرمندگی یا گناہ کا احساس نہیں ہوتا؟ اس کا جواب کگنیٹو ڈسونیئنس (Cognitive Dissonance) کے نظریے میں ملتا ہے۔ انسان جب اپنی اخلاقی اقدار سے ہٹ کر کچھ کرتا ہے، تو وہ اپنے عمل کو جواز دینے کے لیے جھوٹی دلیلیں تلاش کرتا ہے تاکہ اندرونی سکون حاصل کر سکے اور گناہ کے احساس کو ختم کر سکے۔ "Squid Game" کے مختلف کرداروں کو اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنی بقا کے لیے دھوکہ دہی کو درست ثابت کرتے ہیں۔
دھوکہ دہی کی ایک اور وجہ اینگزئیس اٹیچمنٹ اسٹائل (Anxious Attachment Style) ہے، جو بچپن میں والدین کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر بنتی ہے۔ ایسے لوگ، جو جذباتی عدم تحفظ یا دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اکثر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکہ دینے کا سہارا لیتے ہیں۔
مزید برآں، ارتقائی نفسیات (Evolutionary Psychology) کے مطابق، انسان ایسی جگہوں پر دھوکہ دہی کی طرف مائل ہوتا ہے جہاں مسابقت زیادہ ہو اور وسائل محدود ہوں۔ مثال کے طور پر، "Squid Game" میں کھلاڑی اپنی بقا اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ حقیقی زندگی میں دفتر یا کالج میں بہتر مقام یا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔

فلسفیانہ نقطہ نظر

دھوکہ دہی کے بارے میں فلسفیوں کے خیالات بھی گہرائی سے انسانی رویے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ نطشے (Nietzsche) کے مطابق، انسان دھوکہ اس لیے دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی طاقت اور غلبہ (Dominance) ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ یہ دھوکہ دہی کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنی برتری ثابت کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ طاقت کی یہ خواہش انسان کو دوسروں کے نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے مفاد کی طرف لے جاتی ہے۔
دوسری طرف، فائدہ پرستی (Utilitarianism) کے فلسفیوں کا ماننا ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اگر کسی عمل سے کسی فرد کی خوشی یا بھلائی زیادہ ہو سکتی ہے تو وہ عمل درست سمجھا جاتا ہے، چاہے اس سے دوسروں کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور خود کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ یہ ان کی خوشی اور بقا کے لیے ضروری تھا۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ان نظریات کا عکس دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں کھلاڑی اپنے فائدے اور طاقت کے حصول کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، اور اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے جواز تراشتے ہیں۔

تاریخی نقطہ نظر

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان دھوکہ زیادہ تر اپنے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے دیتا ہے۔ اپنی غلطیوں یا ضمیر کی خلش کو دبانے کے لیے، وہ خود کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اصل غلطی دوسرے فرد کی تھی یا یہ عمل کسی بڑی ضرورت کے تحت کیا گیا تھا۔ ایسے مواقع پر وہ قریبی رشتوں کی اہمیت کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔
ولیم شیکسپیئر نے اپنی مشہور تصنیف "جولیس سیزر" میں دھوکہ دہی کا ایک دردناک منظر پیش کیا ہے۔ جولیس سیزر کی موت کے وقت اس کے قریبی ساتھی ڈیسیمس بروٹس نے ہی اسے دھوکہ دیا اور قتل کر دیا۔ اس لمحے جولیس نے بےیقینی کے عالم میں کہا:
"تم بھی بروٹس؟"
یہ الفاظ اس وقت کے دکھ اور بےاعتباری کو ظاہر کرتے ہیں، جو کسی قریبی شخص کے دھوکے سے پیدا ہوتے ہیں۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں لوگ اپنے فائدے کے لیے قریبی ساتھیوں کو دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ حقیقت دکھاتی ہے کہ جب انسانی مفادات اور جذبات کا تصادم ہوتا ہے، تو بعض اوقات انسان قریبی رشتوں کی قربانی دینے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

سماجی اور سیاسی نقطہ نظر

سماجی تبادلہ نظریہ (Social Exchange Theory) کے مطابق، لوگ دھوکہ اس وقت دیتے ہیں جب وہ اپنے عمل کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر کسی عمل سے زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہو تو وہ اسے انجام دیتے ہیں، چاہے اس سے دوسروں کو نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس نظریے کے تحت دھوکہ دہی کو ایک قسم کی "سرمایہ کاری" سمجھا جا سکتا ہے، جہاں فرد اپنے مفادات کے حصول کے لیے دوسروں کے جذبات یا اعتماد کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
دوسری طرف، تضاد کا نظریہ (Conflict Theory)، جس کے بانی کارل مارکس ہیں، دھوکہ دہی کو ایک بڑے نظام کی پیداوار سمجھتا ہے۔ مارکس اور دیگر مفکرین کا ماننا ہے کہ یہ موجودہ معاشی اور سماجی نظام لوگوں کو دھوکہ دہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مقابلے کی فضا پیدا کرتا ہے، جہاں لوگ اپنی بقا اور کامیابی کے لیے دوسروں کو دھوکہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
"Squid Game" اس حقیقت کو خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔ سیریز میں کھلاڑی اپنی زندگی اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دہی کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ اس خوفناک کھیل کا حصہ بننے پر مجبور ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے مالی مسائل کا واحد حل ہے۔ یہ نظامی دباؤ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے اور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیں۔

اختتامی خیالات 

یہ سارے تو خیالات تھے ماہرین کے، اور بطور ماہرِ نفسیات میں انفرادیت (Individualization) پر یقین رکھتی ہوں۔ ہر کسی کے دھوکہ دینے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم خود ان لوگوں میں شامل نہیں؟ ہو سکتا ہے کہ جب دوسرے ہمیں دھوکہ دیتے ہیں تو ہمیں برا لگتا ہو، لیکن حقیقت میں ہم نے بھی کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو۔ البتہ، اس پر نظرِ ثانی کرنا ہمیں پسند نہیں۔
لہٰذا، اختتام اس سوچ کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر ہم خود پر نظرِ ثانی کرکے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کریں، تو دنیا کے بدلنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔


Monday, 30 December 2024

کچھ باتیں سردیوں کی

 یخ ہوائیں، جلدی پھیل جانے والی خاموشی اور ٹھنڈی پڑھتی ہوئی ناک سردیوں کا تحفہ ہوتا ہے پر سب کو یہ پسند نہیں آتا۔ سردیوں کو بے رحم سمجھا جاتا ہے اور اس کی پھیلائی گئی اداسی سے بچنا نا ممکن ہوتا ہے۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو یہ صرف آپ کی یا اس زمانے کی سوچ نہیں بلکہ کہیں صدیوں سے بہت سے لوگوں کی سوچ ہے۔

Winters

گریک مائتھالوجی

قدیم یونانی اساطیر میں ایک کہانی ہے ہیڈیس (Hades) اور پرسیفونی (Persephone) کی۔ ہیڈیس، جو زیر زمین سلطنت کا خدا تھا، نے پرسیفونی کو اغوا کر لیا اور اسے اندرورلڈ (Underworld) میں لے آیا۔ پرسیفونی، جو کہ ڈیمیٹر (Demeter) کی بیٹی تھی، زمین پر فصلوں اور زمین کی زرخیزی کی دیوی تھی۔ اس اغوا کے بعد، ڈیمیٹر نے اپنی بیٹی کی گمشدگی پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا۔ ڈیمیٹر کا غم اتنا شدید تھا کہ اس نے زمین کی زرخیزی کو روک دیا، فصلیں مر گئیں، اور زمین بے جان ہو گئی۔ یہ زمین کی سردی اور خشکی کی علامت بنی، جو سردیوں کے موسم کی ابتدا تھی، اور اس طرح سردیوں کو غم اور اداسی سے تشبیہ ملی۔

ونٹر بلیوز

کچھ لوگ سردیوں کے موسم میں ایک عجیب سی تھکن، اداسی اور بے دلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسے ونٹر بلیوز کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کی توانائی کمزور ہو جاتی ہے، دل کسی کام میں نہیں لگتا، اور موڈ مسلسل خراب رہتا ہے۔

اگر یہ علامات زیادہ شدت اختیار کر لیں تو یہ ایک ذہنی عارضے کی شکل اختیار کر سکتی  ہیں  جسے  SAD  یعنی  Seasonal Affective Disorder کہا جاتا ہے۔ یہ عارضہ DSM (جو کہ ذہنی امراض کی تشخیص کے لیے ایک عالمی کتاب ہے) میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ دماغ میں melatonin ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہے، جو depression کا باعث بنتا ہے۔

ونٹر بلیوز کو یلو میں بدلنے کے طریقے

دنیا کے مختلف لوگ ونٹر بلیوز سے بچنے کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ڈینش ثقافت میں ہِیگے (Hygge) کا تصور موجود ہے، جس میں لوگ چھوٹی چھوٹی، گرم جوش اور خوشی دینے والی چیزوں کو انجوائے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس میں آرام دہ ماحول بنانے اور زندگی کی سادہ خوشیوں کو محسوس کرنے پر زور دیا جاتا ہے، جیسے کہ چائے پینا، موم بتی جلانا، یا اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا۔ جاپانی ثقافت میں شِنرِن-یُوکُو (Shinrin-Yoku) ہے، جس کا مطلب ہے "جنگل میں غسل" یعنی قدرتی ماحول میں وقت گزارنا تاکہ ذہنی سکون حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح، ناروے جیسی جگہوں پر جہاں سردی کم وقت کے لیے آتی ہے، وہاں لائٹ تھراپی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ لائٹ تھراپی میں روشن روشنی میں وقت گزارنا شامل ہوتا ہے تاکہ قدرتی روشنی کے کمی کو پورا کیا جا سکے اور دماغی سکون اور خوشی میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ تمام طریقے  ہمیں  دکھاتے  ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ سردیوں کے موسم میں اپنے ذہنی سکون اور خوشی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ثقافتی طریقے اپناتے ہیں۔

سانٹا کلاز

سانٹا کلاز کا سردیوں سے گہرا تعلق ہے۔ چاہے ہم کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، آرٹ یا لٹریچر کی وجہ سے سانٹا کلاز سے ہم سب واقف ہیں۔ سانٹا کلاز اصل میں ایک چوتھی صدی کے عیسائی پادری تھے جن کا نام سینٹ نکولس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بہت فیاض اور مہربان انسان تھے۔ اپنے امیر والدین کے انتقال کے بعد، انہوں نے اپنی جائیداد کو ضرورت مندوں کی مدد کے لیے استعمال کیا۔ 6 دسمبر کو ان کا انتقال ہوا، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اچھے دل والے انسان "سانٹا کلاز" کے طور پر مشہور ہو گئے۔

نکولس کی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے ان کی شخصیت ایک ایسے شخص کے طور پر مشہور ہو گئی جو غریبوں کو تحائف دیتا اور ان کی مدد کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ، مختلف ادبی اثرات اور اشتہارات کے ذریعے سانٹا کلاز کا تصور ایک سرخ سوٹ پہنے، خوش مزاج، داڑھی والے شخص کے طور پر ابھرا جو تحائف تقسیم کرتا ہے۔

نیٹرلینڈز میں انہیں "سینٹرکلاز" کہا جاتا ہے، جبکہ اٹلی میں انہیں "بابو ناتالے" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اختتامی خیالات

وقت کے ساتھ سردیوں کے موسم سے بہت سی علامتیں اور کہانیاں جڑ چکی ہیں، لیکن میرے لیے سردی ہمیشہ پسندیدہ رہی ہے۔ یہ موسم اپنی خاموشی اور سکون کے ساتھ خاص ہے، جو ان لوگوں کو بے حد عزیز ہوتا ہے جنہیں تنہائی اور خاموشی سے محبت ہے۔ اگر یہ خاموشی آپ کو خوفزدہ کرتی ہے، تو شاید آپ اپنے اندر کی آواز سننے سے گریزاں ہیں اور خود کو دنیا کے شور میں کھو دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب آپ اپنی ذات سے روبرو ہوں گے، اور پھر یہ خاموشی آپ کے لیے خوف کا باعث نہیں بلکہ سکون کا ذریعہ بنے گی۔

اگر آپ کو وقت ملے، تو اسی کیفیت کو بیان کرتا میرا افسانہ "سرد شب کی سرگوشیاں" ضرور پڑھیں۔ یہ سردیوں کی اس پراسرار خاموشی اور انسان کے اندرونی جذبات پر روشنی ڈالتا ہے۔

کتاب کا جائزہ: "مالہ" از نمرہ احمد — شفا کا ایک سفر

 نمرہ احمد صرف ایک مصنفہ نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ان کی آراء اکثر کتابوں سے ہٹ کر معاشرتی اور دینی معاملات میں بھی ...