"squid game" دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا کہ آخر لوگ دھوکہ کیوں دیتے ہیں، جب کہ انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ ان کے اس عمل سے کسی اور کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یہاں تک کہ کسی کی جان بھی جا سکتی ہے؟ اس سیریز میں ہم دیکھتے ہیں کہ کھلاڑی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، صرف اس لیے کہ وہ جیت سکیں یا اپنی بقا کو یقینی بنا سکیں۔
یہ سوال صرف ایک سیریز تک محدود نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی یہی رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ اپنے مفادات کے لیے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، کبھی اپنی زندگی بچانے کے لیے تو کبھی طاقت یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے۔ چلیے، اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف ماہرین دھوکہ دہی کو کیسے سمجھتے ہیں اور اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
نفسیاتی نقطہ نظر
سماجی نفسیات کی ایک اہم تھیوری، سوشل آئیڈینٹٹی تھیوری(Social Identity Theory) دھوکہ دہی کے رویے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ تھیوری بتاتی ہے کہ انسان دھوکہ اس وقت دیتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اس کا یا اس گروپ کا، جس کا وہ حصہ ہے، نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی حفاظت یا اپنے گروپ کو بچانے کے لیے کسی اور کو نقصان پہنچانا غلط نہیں سمجھتا۔
لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایسے افراد کو اپنے عمل پر شرمندگی یا گناہ کا احساس نہیں ہوتا؟ اس کا جواب کگنیٹو ڈسونیئنس (Cognitive Dissonance) کے نظریے میں ملتا ہے۔ انسان جب اپنی اخلاقی اقدار سے ہٹ کر کچھ کرتا ہے، تو وہ اپنے عمل کو جواز دینے کے لیے جھوٹی دلیلیں تلاش کرتا ہے تاکہ اندرونی سکون حاصل کر سکے اور گناہ کے احساس کو ختم کر سکے۔ "Squid Game" کے مختلف کرداروں کو اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنی بقا کے لیے دھوکہ دہی کو درست ثابت کرتے ہیں۔
دھوکہ دہی کی ایک اور وجہ اینگزئیس اٹیچمنٹ اسٹائل (Anxious Attachment Style) ہے، جو بچپن میں والدین کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر بنتی ہے۔ ایسے لوگ، جو جذباتی عدم تحفظ یا دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اکثر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکہ دینے کا سہارا لیتے ہیں۔
مزید برآں، ارتقائی نفسیات (Evolutionary Psychology) کے مطابق، انسان ایسی جگہوں پر دھوکہ دہی کی طرف مائل ہوتا ہے جہاں مسابقت زیادہ ہو اور وسائل محدود ہوں۔ مثال کے طور پر، "Squid Game" میں کھلاڑی اپنی بقا اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ حقیقی زندگی میں دفتر یا کالج میں بہتر مقام یا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔
دھوکہ دہی کی ایک اور وجہ اینگزئیس اٹیچمنٹ اسٹائل (Anxious Attachment Style) ہے، جو بچپن میں والدین کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر بنتی ہے۔ ایسے لوگ، جو جذباتی عدم تحفظ یا دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اکثر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دھوکہ دینے کا سہارا لیتے ہیں۔
مزید برآں، ارتقائی نفسیات (Evolutionary Psychology) کے مطابق، انسان ایسی جگہوں پر دھوکہ دہی کی طرف مائل ہوتا ہے جہاں مسابقت زیادہ ہو اور وسائل محدود ہوں۔ مثال کے طور پر، "Squid Game" میں کھلاڑی اپنی بقا اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ حقیقی زندگی میں دفتر یا کالج میں بہتر مقام یا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔
فلسفیانہ نقطہ نظر
دھوکہ دہی کے بارے میں فلسفیوں کے خیالات بھی گہرائی سے انسانی رویے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ نطشے (Nietzsche) کے مطابق، انسان دھوکہ اس لیے دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی طاقت اور غلبہ (Dominance) ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ یہ دھوکہ دہی کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنی برتری ثابت کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ طاقت کی یہ خواہش انسان کو دوسروں کے نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے مفاد کی طرف لے جاتی ہے۔
دوسری طرف، فائدہ پرستی (Utilitarianism) کے فلسفیوں کا ماننا ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اگر کسی عمل سے کسی فرد کی خوشی یا بھلائی زیادہ ہو سکتی ہے تو وہ عمل درست سمجھا جاتا ہے، چاہے اس سے دوسروں کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور خود کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ یہ ان کی خوشی اور بقا کے لیے ضروری تھا۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ان نظریات کا عکس دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں کھلاڑی اپنے فائدے اور طاقت کے حصول کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، اور اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے جواز تراشتے ہیں۔
دوسری طرف، فائدہ پرستی (Utilitarianism) کے فلسفیوں کا ماننا ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اگر کسی عمل سے کسی فرد کی خوشی یا بھلائی زیادہ ہو سکتی ہے تو وہ عمل درست سمجھا جاتا ہے، چاہے اس سے دوسروں کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور خود کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ یہ ان کی خوشی اور بقا کے لیے ضروری تھا۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ان نظریات کا عکس دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں کھلاڑی اپنے فائدے اور طاقت کے حصول کے لیے دھوکہ دیتے ہیں، اور اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے جواز تراشتے ہیں۔
تاریخی نقطہ نظر
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان دھوکہ زیادہ تر اپنے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے دیتا ہے۔ اپنی غلطیوں یا ضمیر کی خلش کو دبانے کے لیے، وہ خود کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اصل غلطی دوسرے فرد کی تھی یا یہ عمل کسی بڑی ضرورت کے تحت کیا گیا تھا۔ ایسے مواقع پر وہ قریبی رشتوں کی اہمیت کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔
ولیم شیکسپیئر نے اپنی مشہور تصنیف "جولیس سیزر" میں دھوکہ دہی کا ایک دردناک منظر پیش کیا ہے۔ جولیس سیزر کی موت کے وقت اس کے قریبی ساتھی ڈیسیمس بروٹس نے ہی اسے دھوکہ دیا اور قتل کر دیا۔ اس لمحے جولیس نے بےیقینی کے عالم میں کہا:
"تم بھی بروٹس؟"
یہ الفاظ اس وقت کے دکھ اور بےاعتباری کو ظاہر کرتے ہیں، جو کسی قریبی شخص کے دھوکے سے پیدا ہوتے ہیں۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں لوگ اپنے فائدے کے لیے قریبی ساتھیوں کو دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ حقیقت دکھاتی ہے کہ جب انسانی مفادات اور جذبات کا تصادم ہوتا ہے، تو بعض اوقات انسان قریبی رشتوں کی قربانی دینے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔
ولیم شیکسپیئر نے اپنی مشہور تصنیف "جولیس سیزر" میں دھوکہ دہی کا ایک دردناک منظر پیش کیا ہے۔ جولیس سیزر کی موت کے وقت اس کے قریبی ساتھی ڈیسیمس بروٹس نے ہی اسے دھوکہ دیا اور قتل کر دیا۔ اس لمحے جولیس نے بےیقینی کے عالم میں کہا:
"تم بھی بروٹس؟"
یہ الفاظ اس وقت کے دکھ اور بےاعتباری کو ظاہر کرتے ہیں، جو کسی قریبی شخص کے دھوکے سے پیدا ہوتے ہیں۔
"Squid Game" میں بھی ہمیں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، جہاں لوگ اپنے فائدے کے لیے قریبی ساتھیوں کو دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ حقیقت دکھاتی ہے کہ جب انسانی مفادات اور جذبات کا تصادم ہوتا ہے، تو بعض اوقات انسان قریبی رشتوں کی قربانی دینے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔
سماجی اور سیاسی نقطہ نظر
سماجی تبادلہ نظریہ (Social Exchange Theory) کے مطابق، لوگ دھوکہ اس وقت دیتے ہیں جب وہ اپنے عمل کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر کسی عمل سے زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہو تو وہ اسے انجام دیتے ہیں، چاہے اس سے دوسروں کو نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اس نظریے کے تحت دھوکہ دہی کو ایک قسم کی "سرمایہ کاری" سمجھا جا سکتا ہے، جہاں فرد اپنے مفادات کے حصول کے لیے دوسروں کے جذبات یا اعتماد کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
دوسری طرف، تضاد کا نظریہ (Conflict Theory)، جس کے بانی کارل مارکس ہیں، دھوکہ دہی کو ایک بڑے نظام کی پیداوار سمجھتا ہے۔ مارکس اور دیگر مفکرین کا ماننا ہے کہ یہ موجودہ معاشی اور سماجی نظام لوگوں کو دھوکہ دہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مقابلے کی فضا پیدا کرتا ہے، جہاں لوگ اپنی بقا اور کامیابی کے لیے دوسروں کو دھوکہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
"Squid Game" اس حقیقت کو خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔ سیریز میں کھلاڑی اپنی زندگی اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دہی کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ اس خوفناک کھیل کا حصہ بننے پر مجبور ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے مالی مسائل کا واحد حل ہے۔ یہ نظامی دباؤ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے اور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیں۔
دوسری طرف، تضاد کا نظریہ (Conflict Theory)، جس کے بانی کارل مارکس ہیں، دھوکہ دہی کو ایک بڑے نظام کی پیداوار سمجھتا ہے۔ مارکس اور دیگر مفکرین کا ماننا ہے کہ یہ موجودہ معاشی اور سماجی نظام لوگوں کو دھوکہ دہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مقابلے کی فضا پیدا کرتا ہے، جہاں لوگ اپنی بقا اور کامیابی کے لیے دوسروں کو دھوکہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
"Squid Game" اس حقیقت کو خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔ سیریز میں کھلاڑی اپنی زندگی اور انعامی رقم جیتنے کے لیے دھوکہ دہی کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ اس خوفناک کھیل کا حصہ بننے پر مجبور ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے مالی مسائل کا واحد حل ہے۔ یہ نظامی دباؤ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے اور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیں۔
اختتامی خیالات
یہ سارے تو خیالات تھے ماہرین کے، اور بطور ماہرِ نفسیات میں انفرادیت (Individualization) پر یقین رکھتی ہوں۔ ہر کسی کے دھوکہ دینے کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم خود ان لوگوں میں شامل نہیں؟ ہو سکتا ہے کہ جب دوسرے ہمیں دھوکہ دیتے ہیں تو ہمیں برا لگتا ہو، لیکن حقیقت میں ہم نے بھی کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو۔ البتہ، اس پر نظرِ ثانی کرنا ہمیں پسند نہیں۔
لہٰذا، اختتام اس سوچ کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر ہم خود پر نظرِ ثانی کرکے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کریں، تو دنیا کے بدلنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

No comments:
Post a Comment