صنفی تعصبات: وہ نظر نہ آنے والی رکاوٹیں جو اب بھی قائم ہیں
تعصبات وہ خیالات ہوتے ہیں جو ہم کسی دوسرے گروہ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ان میں رویے، ظاہری شکل، شخصیت کی خصوصیات اور دیگر چیزوں سے متعلق مفروضے شامل ہوتے ہیں۔
صنفی تعصبات ان خیالات کو کہا جاتا ہے جو مردوں اور عورتوں کی خصوصیات سے متعلق ہوتے ہیں — اور اکثر دونوں کو ایک دوسرے کے الٹ سمجھا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، خواتین کو عموماً مہربان، نرم دل اور خیال رکھنے والی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان مثبت صفات کو منفی طور پر استعمال کرتے ہوئے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ خواتین کمزور، جذباتی اور دوسروں پر انحصار کرنے والی ہوتی ہیں۔
دوسری طرف، مردوں کو باصلاحیت، فیصلہ کن اور پراعتماد تصور کیا جاتا ہے — لیکن یہی خصوصیات انھیں جارحانہ، خودغرض اور سخت گیر بھی بنا دیتی ہیں۔
یہ اجتماعی خیال رائج ہے کہ خواتین میں نرمی اور ہمدردی زیادہ جبکہ قابلیت کم ہے، اور مردوں میں قابلیت زیادہ لیکن نرمی کم پائی جاتی ہے۔
اسی لیے مردوں کو عموماً اعلیٰ مقام کا اہل سمجھا جاتا ہے، جبکہ خواتین کو ان کی نرمی کی وجہ سے "اچھی" تو کہا جاتا ہے، مگر طاقتور عہدوں کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔
اس رجحان کو (Women are Wonderful Effect) کہا جاتا ہے۔
لیکن اس مثبت تاثر کے باوجود، خواتین کو اب بھی اعلیٰ عہدوں کے لیے کم موزوں سمجھا جاتا ہے۔
شیشے کی چھت (Glass Ceiling)
شیشے کی چھت ایک استعارہ ہے، جو اُن نظر نہ آنے والی رکاوٹوں کو ظاہر کرتا ہے جو خواتین کو پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔
2010 کی ایک تحقیق کے مطابق، 500 بڑی کمپنیوں میں صرف 1 فیصد میں خواتین CEO تھیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ "ایک عام مینیجر" کا تصور اکثر "ایک عام مرد" سے جوڑا جاتا ہے۔ خواتین کو قیادت کے کردار کے لیے کم موزوں سمجھا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ جب خواتین مردوں کے شعبوں میں کامیاب بھی ہو جائیں، تب بھی وہ ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ صنفی امتیاز کا سامنا کرتی ہیں جو خواتین کے روایتی شعبوں میں کام کرتی ہیں۔
یہ مانا جاتا ہے کہ صنفی تعصبات اب کم ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جب خواتین سخت یا فیصلہ کن قیادت کا مظاہرہ کرتی ہیں، تو اکثر انھیں ناپسند کیا جاتا ہے — جبکہ مردوں کو ایسی قیادت پر سراہا جاتا ہے۔
شیشے کی کھائی (Glass Cliff)
جب خواتین قیادت میں ناکام ہوتی ہیں، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کردار کے قابل ہی نہیں تھیں۔
مگر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خواتین کو اکثر ایسی قیادت سونپی جاتی ہے جب ادارہ بحران کا شکار ہوتا ہے — یعنی جب ناکامی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ رجحان "شیشے کی کھائی" کہلاتا ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ:
- جب کوئی کمپنی نقصان میں جا رہی ہو، تو CEO کے طور پر خاتون کو منتخب کیا جاتا ہے۔
- جب کسی سیاسی مہم کا ہارنا طے ہو، تو اس کی سربراہی کسی عورت کو دی جاتی ہے۔
- جب کوئی تنظیم یا میلہ زوال کا شکار ہو، تو خاتون کو اس کی قیادت دی جاتی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے خواتین ناکام ہو رہی ہیں، جبکہ اصل میں انھیں ناکامی کے کنارے پر لا کر کھڑا کیا گیا ہوتا ہے۔
ٹوکن ازم: ایک جھوٹی مساوات
یہ کہنا کہ "دنیا بدل گئی ہے" اور اب جنس کی کوئی اہمیت نہیں، ایک سطحی سوچ ہے۔ جب ایک عورت کامیاب نہیں ہوتی، تو یہی کہا جاتا ہے کہ شاید وہ خود ہی ناکام ہے۔
یہ سوچ ٹوکن ازم (Tokenism) کا نتیجہ ہے، جس میں چند خواتین کو نمائشی طور پر اعلیٰ عہدے دے دیے جاتے ہیں تاکہ تاثر دیا جا سکے کہ سب کے لیے مواقع برابر ہیں۔
ٹوکن ازم کے منفی اثرات:
- دوسرے افراد اس خاتون کو غیر مستحق سمجھ سکتے ہیں۔
- وہ خود یہ محسوس کرتی ہے کہ اسے محض عورت ہونے کی وجہ سے منتخب کیا گیا، جس سے اعتماد اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
- امتیازی سوچ رکھنے والے افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نظام اب مساوی ہے — حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
- خود ان منتخب خواتین کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔
جب کوئی آواز اُٹھائے تو
جب کوئی صنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، تو کبھی تو تبدیلی آتی ہے، مگر اکثر وہ الزامات، بدنامی یا تضحیک کا نشانہ بنتا ہے۔ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ شخص صرف بہانے بنا رہا ہے؟ یہاں تک کہ بعض اوقات خواتین خود دوسری خواتین کی بات پر یقین نہیں کرتیں۔
جب کوئی عورت کہتی ہے کہ اس کی ناکامی کی وجہ صنفی امتیاز ہے، تو بعض دوسری خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ وہ محض بہانے بنا رہی ہے — خاص طور پر جب بظاہر ناکامی کی ذمہ داری اس کی اپنی لگتی ہو۔
آج بھی جب کوئی عورت کسی اعلیٰ مقام پر پہنچتی ہے تو ہم جشن مناتے ہیں — اور یہ ثابت کرتا ہے کہ صنفی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ برابری کی جدوجہد جاری ہے لیکن ہمیشہ مرد ہی خواتین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔
کبھی کبھار، عورتیں ایک دوسرے کی سب سے بڑی مخالف بن جاتی ہیں۔
لہٰذا، ہر خاتون سے گزارش ہے:
رکاوٹوں سے آگے دیکھیں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اور وہ حاصل کریں جس کی آپ حق دار ہیں۔

No comments:
Post a Comment